تقلیدکاثبوت قرآن سے: اللہ تعالی کاارشادہے اے ایمان والوں اطا عت کرواللہ کی اور اس کے رسول کی اور اپنے میں سے جو اولی الامر ہے ان کی اطاعت کرو: نساء آیت ۵۹

Taqleed in the Quran : Allah Says : “ Ask the people who know, if (when) you do not know.” (Nahl – 43/ambiyaa).

بدعاتِ نام نہاد اہل حدیث

بدعاتِ نام نہاد اہلحدیث  
فرقہ نام نہاد  اہل حدیث کے علماء اور عوام میں پائی جانی والی چند مشہور بدعات
یہ اپنی ان بدعات کو ثبوت قرآن و حدیث سے دے  ورنہ...........
  نبی ﷺ کے اس فرمان ،كل بدعة ضلالة،
” ہر بدعت گمراہی ہے “۔ ( صحیح مسلم  ج2 ص 592) کےتحت گمراہ ہیں۔   

اگر آپ اپنے مولویوں کا انکار کرتے ہیں   تو ہمیں یہ ضرور بتائیں کہ اگر آپ کے علما ء غیرمقلد (لایجتہد ولا یقلد) ہو کر حق پر تھے تو آپ حق کا انکار کیو ں کرتے ہیں ؟ اگر آپ کہتے ہیں  غیرمقلد ہو کر وہ حق پر نہیں تھے تو پھر آپ لوگوں کو کیوں ترک تقلید مجتہد کی دعوت دیتے ہیں؟
نام نہاد اہلحدیث یہ سمجھتے ہیں کہ بس یہ چند رسمیں اور خرافات کا نام ہی بدعت ہیں باقی ہم جو کر تے پھر یں  لیکن حقیقت یہ ہے کہ  فرقہ اہل حدیث میں بھی بدعات پائی  جاتی ہیں   ہم ا ن شاء اللہ چند ایک ان میں پائی جانی والی بدعات کو یہاں مختصر  بیان کرتے ہیں۔

1:۔   امام کے پیچھے فاتحہ فرض
فرقہ    نام نہاداہلحدیث امام پیچھے فاتحہ کو فرض قرار دیتا ہے جو کہ سخت ترین بدعت ہے۔
  نام نہاداہلحدیث فتوی
”فاتحہ خلف الامام فرض ہے اور اس کے بغیر نماز نہیں“۔
(فتاوے علماء حدیث حصہ  2 ص 120)
 نہ یہ قرآن سے ثابت ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی فرض ہے اور نہ پڑھنے والے کی نماز نہیں نہ ہی حدیث سے ثابت ہے لہذا یہ بدعت میں شامل ہے۔
  فاتحہ خلف الامام کے سلسلہ میں یہ فرقہ ایک حدیث پیش کرتا ہے عبد اللہ بن صامت‌ؓ ؓ کی جو کہ  صحیح نہیں اور خود  ناصر الدین البانی صاحب جو کہ اس فرقہ کے اب تک کے سب سے بڑے عالم ، محدث، شمار ہوتے ہیں  انہوں نے بھی  اعتراف کیا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (دیکھئے البانی صاحب کی تحقیق سنن ابی داؤد جلد 1 ص 217)

اس سلسلے میں  یہ جاہل نام نہاد اہلحدیث صحیح بخاری سے بھی  ایک حدیث بطور دلیل پیش کرتے ہیں جس میں لکھا ہے کہ
 ”جس نے فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں“ جبکہ ان  اندھے نام نہاد  اہل حدیثوں     کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ پوری حدیث صحیح مسلم  کتاب الصلاۃ میں موجود ہے  اور مکمل موجود ہے کہ
أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ» [ص:296] وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فَصَاعِدًا

 ”آپ ﷺ فرماتے ہیں جس نے فاتحہ اور کچھ زائد قرآن نہ پڑھا اس کی نماز نہیں“
 اس سے معلوم ہو گیا کہ یہ حدیث اکیلے نمازی کیلئے ہے نہ کہ مقتدی کیلئے۔ اس کے علاوہ غیرمقلدین کے پاس کوئی ایک بھی دلیل موجود نہیں  جس سے معلوم ہو کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی فرض ہے  اور نہ پڑھنے والے کی نماز  نہیں ہو گی جیسا کہ  ان لوگوں نے اس پر فتوے دے رکھے ہیں۔ ہمارا اس فرقے کی جاہل عوام سے آسان سا سوال ہے کہ آپ لوگوں نے امام کے پیچھے فاتحہ فرض ہے کا حکم کہاں سے لیا ہے ذرہ تحقیق کرکے بتائیں؟
یاد رہے   فرقہ  اہل حدیث کی ایک نئی شاخ جو کہ کچھ سال پہلے وجود میں آئی   مسعودی فرقہ جو کہ اپنے آپ کو جماعت المسلمین کہتا ہے اس جماعت کے بہت سوں نے اب ترک قرات خلف الامام کی طرف رجوع کر لیا ہے۔

2:۔ ننگے سر نماز
فرقہ اہلحدیث نے ننگے سر نماز کو شعار بنا لیا ہے اور اسے یہ سنت کہتے ہیں جبکہ یہ سنت  نہیں اس کو سنت سمجھنا اور شعار بنانا اس   نام نہاد اہلحدیث    فرقے کی صریح بدعت ہے۔
ابو سعید شرف الدین صاحب غیرمقلد  کا رجوع
فرماتے ہیں: ”بعض کا جو شیوہ ہے کہ گھر سے ٹوپی یا پگڑی سر پر رکھ کر آئے ہیں اور ٹوپی یا پگڑی قصداً اتار کر ننگے سر نماز پڑھنے کو اپنا شعار بنا رکھا ہے اور پھر اس کو سنت کہتے ہیں بلکل غلط ہے ۔ یہ فعل سنت سے ثابت نہیں“۔ اگے لکھتے ہیں ” برہنہ سر کو بلا وجہ شعار بنانا بھی خلاف سنت ہے اور خلاف سنت بے وقوفی ہی تو ہوتی ہے“۔
 فتاویٰ ثنائیہ ج 1 ص 523))
معلوم ہوا کہ یہ  نام نہاد اہلحدیث فرقہ خلاف سنت نمازیں پڑھتا ہے۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ  نام نہاد اہلحدیث فرقہ اس مسئلے کو ترک کرے اور اعلانیہ توبہ کرے۔

3:۔ ایک مٹھی سے زائد داڑھی کو سنت کہنا اور ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنے کو غلط کہنا
فرقہ 

نام نہاد اہلحدیث نے ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنے کو  غلط کہتا ہے اور  ایک مٹھی سے زائد رکھنے کو شعار بنا لیا ہے  اور اسے یہ سنت کہتے ہیں جبکہ یہ سنت سے ثابت نہیں۔

حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ فرماتے ہیں
تم مشرکین کے خلاف کرو داڑھی چھوڑو مونچھیں کترا دو پھر حضرت ابن عمر جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی پکڑ لیتے اور ایک مٹھی سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں  کاٹ دیتے۔“
(صحیح بخاری  لباس کا بیان : 5892)
حضرت ابن عمرؓ  نے  ہی نبیﷺ سے روایت کی ہے اور ظاہر سے بات ہے خود وہ نبی کی مخالفت تو نہیں کریں گے؟
 جبکہ بدعتی غیرمقلد کہتے ہیں کہ نہیں ابن عمرؓ جنہوں نے نبی کریمﷺ کو خود دیکھا  ان پر ہمیں یقین نہیں   بلکہ ہم نبیﷺ کی حدیث کی خود تشریح کریں گے۔
چنانچہ ابن بشیر الحسینوی نامی  نام نہاد اہلحدیث لکھتا ہے:۔
” ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنا بلکل غلط ہے
عبد اللہ بن عمرؓ کی جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ ان کا اپنا عمل ہے اور ان کا عمل دین میں دلیل نہیں بنتا ۔ صحابہ کا اپنا قول اور اپنا عمل دلیل نہیں بنتا“۔(شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا ص 158)
لا حولا ولاقوۃ الا باللہ
کوئی اس جاہل  نام نہاد اہلحدیث سے پوچھے کہ صحابہ کا عمل دین میں دلیل نہیں بنتا  تو تجھ  نام نہاد اہلحدیث کی کیا اوقات کے خود سے فتوے دے رہا ہے کہ مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنا بلکل غلط ہے۔
 غیرمقلد عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ان کے جاہل مولوی  ائمہ  اربعہ اور صحابہ سے ہٹا کر صرف اپنی جاہلانہ تحقیق کے پیچھے ہی انہیں لگا کر رکھے ہوئے ہیں۔
ملاحظہ ہو آل  نام نہاد  اہل حدیث    کا  عمل
https://1.bp.blogspot.com/-_A1OqiBBey4/VebR_RrYgpI/AAAAAAAABKs/fjIR_C_iMXg/s320/%25D8%25BA%25DB%258C%25D8%25B1%25D9%2585%25D9%2582%25D9%2584%25D8%25AF%2B%25D8%25AF%25D8%25A7%25DA%2591%25DA%25BE%25DB%258C.jpg

https://2.bp.blogspot.com/-kuanYGCMIsA/VebR9r4YBNI/AAAAAAAABKk/M54-XqvOJ-E/s320/%25D8%25A7%25DB%2581%25D9%2584%2B%25D8%25AD%25D8%25AF%25DB%258C%25D8%25AB%2B%25DA%25A9%25DB%258C%2B%25D8%25AF%25D8%25A7%25DA%2591%25DA%25BE%25DB%258C.jpg

     ۔۔۔۔۔۔
4:۔ ٹانگیں پھیلا کر نماز پڑھنا
فرقہ اہلحدیث آج کل جتنی ٹانگیں پھیلا کر نماز پڑھتا ہے  جو کہ  ادب کے بھی خلاف ہے اور یہ ان نام نہاد  اہل حدیثوں     کی اپنی نکالی ہوئی بدعت ہے ایسے کوئی شخص کسی کے سامنے حتہ کہ اپنے باپ کے  سامنے بھی نہیں کھڑا ہو سکتا جبکہ یہ بدعتی  نام نہاد اہلحدیثاللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
ملاحظہ  ہو  نام نہاد اہلحدیث کا یہ کا عمل


5:۔ رفع یدین کو سنت موکدہ یا فرض واجب کہنا
رفع یدین  کے مسئلہ میں ائمہ اربعہؒ میں اجتہادئی اختلاف ہے شافعی اور حنبلی رفع یدین کرتے ہیں لیکن اسے فرض واجب یا سنت موکدہ نہیں  سمجھتے جبکہ حنفی اور مالکی ترک رفع یدین کے قائل ہیں۔ رفع یدین کو سنت موکدہ یا فرض واجب کہنا ان نام نہاد  اہل حدیثوں     کی اپنی نکالی ہوئی بدعت ہے۔ قرآن و حدیث سے رفع یدین کے سنت موکدہ ، فرض یا واجب ہونے کا کوئی بھی ثبوت  موجود نہیں ہے بلکہ رفع یدین کا جوتے پڑھ کر نماز پڑھنے جتنا بھی ثبوت موجود نہیں اور نہ رفع یدین کے ہمیشہ ہونے پر کوئی ایک بھی صحیح صریح دلیل موجود ہے سب دلائل ضعیف ہے۔ اس کے بر عکس ترک رفع یدین پر    ابن مسعودؓ کی نبی کریمﷺ سے  مشہور حدیث موجود ہے۔ جس کے متعلق خود فرقہ اہلحدیث کے اب تک کے سب سے بڑے عالم  ناصر الدین البانی صاحب نے اعتراف حق کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں:
”حق بات یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے“۔
 مشکاۃ المصابیح تحقیق نا صر الدین البانی ج 1 ص 254))
جبکہ آج کے بدعتی غیرمقلدین کے ہاں رفع یدین عند الرکوع فرض اور واجب ہے دیکھئے :
(سلفی تحقیقی جائزہ ص 246)

6:۔حلال جانوروں کی ہر چیز حلال
آلِ  نام نہاد  اہل حدیث    کے ہاں حلال جانوروں کی ہر چیز (  پیشاب ، پاخانہ ، پیپ ، تھوک  ) حلال ہے۔
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے شیخ الکل میاں نذیر حسین دہلوی  صاحب لکھتے ہیں:
”جتنے حلال جانور ہیں نا کے تمام اجزاء حلال ہیں ان کی کوئی چیز حرام نہیں“۔
فتویٰ نذیریہ جلد 3 ص 320))
اس سے معلوم ہو گیا کہ آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے شیخ الکل حلال جانور کا پیشاب پاخانہ وغیرہ کو حلال سمجھنے کے قائل تھے اور   یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ حلال جانوروں کی ان چیزیوں کو ویسے ہی پھینکتے ہوں گے  کیونکہ حلال چیز کو پھینکا یا ضائع کرنا گناہ ہے اور شیخ الکل یقیناً یہ گناہ نہ کرتے ہوں گے یا  اپنے  واسطے استعمال کرتے ہوں گے یا اپنی جماعت  اہلحدیث کے واسطے۔

7:۔نا پاک کپڑوں میں نماز صحیح
اگر کسی  نام نہاد  اہل حدیث   کے کپڑوں  پر کسی حلال جانور کا پیشاب ، پاخانہ لگا ہو تو
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے شیخ الحدیث مفتی عبد الستار صاحب نے ان کیلئے آسانی کر دی ہے فرماتے ہیں:
 ”اس میں نماز پڑھنی بلکل درست ہے“۔ (فتاویٰ ستاریہ ج 1 ص 105)
آل  نام نہاد  اہل حدیث    اکثر اپنے علماء کو نہ ماننے کا دعوی کرتی ہے   یقیناً  ان کے جہلا یہاں بھی کریں گے بس ان سے ایک سوال ہے اور ایک مطالبہ ہے سوال یہ ہے کہ
سوال یہ ہے کہ اگر ترک تقلید کے بعد آپ کے مولوی حق پر تھے تو آپ حق  کا انکار کرکے گمراہ کیوں ہوتے ہیں ؟
یا پھر اگر ترک تقلید کے بعد آپ کے مولووی گمراہ ہی ہوئے ہیں تو پھر لوگوں کو کیوں ترک تقلید کی دعوت دیتے ہیں؟
مطالبہ یہ ہے کہ آپ نے جو اپنا نام انگریز سے اہل حدیث الارٹ کروایا تھا وہ اسے واپس کر دیں۔

8:۔اکھٹی تین طلاق کو ایک  کہنا
 اکھٹی تین طلاق کو ایک قرار دینا آل  نام نہاد  اہل حدیث    کی بدعت ہے   اکھٹی تین طلاق ایک ہے اس کا کوئی بھی ثبوت نہ قرآن پاک میں ہے نہ ہی حدیث میں ہے۔ اس مسئلے میں آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے  پاس ایک  بھی صحیح صریح مرفوع حدیث موجود نہیں صحیح مسلم کی روایت بطور دلیل پیش کرتے ہیں لیکن اس میں  طلاق کے اکھٹے ہونے کا کوئی ذکر موجود نہیں اس روایت  کا خود سے معنی کرنا ہو تو پھر اس سے الگ الگ مجلسوں کی تین  طلاق بھی ایک ہونا ثابت ہوجاتی ہیں جبکہ اس کا صحیح معنی یہ ہے کہ وہ حدیث غیر مدخولہ کیلئے ہے 


غیرمدخول بہا عورت (جس سے نکاح ہو گیا مگر ہمبستری نہیں ہوئی) کو ایک  مرتبہ طلاق کہنا ہی نکاح سے نکال دیتا ہے اور اکھٹی تین دینے کی صورت میں  تینوں واقع ہو جاتی ہیں اور وہ حرام ہو جاتی ہے۔
حضرت معاویہ بن ابی عیاش انصاریؒ فرماتے ہیں کہ  میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور عاصم بن عمروؒ کی مجلس یں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضرت محمد بن ایاس بن بکیرؒ تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ ایک دیہاتی گنوار نے اپنی غیر مدخول بہا بیوی (جس سے ابھی تک ہمبستری نہیں کی گئی) کو تین طلاقیں دے دی ہیں اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ حضرت عبداللہؓ بن زبیرؓ نے فرمایا جا کر عبداللہؓ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے پوچھو میں ابھی ان کو حضرت عائشہؓ کے پاس چھوڑ کے آیا ہوں مگر جب ان سے سوال کر چکو تو واپسی پر ہمیں بھی مسئلہ سے آگاہ کرنا جب سائل ان کے پاس حاضر ہوا  اور دریافت کیا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہؓ فتویٰ دیجئے لیکن سوچ سمجھ کر بتانا کیونکہ مسئلہ پیچیدہ ہے حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ ایک طلاق اس سے علیحدگی کیلئے کافی تھی اور تین طلاقوں سے وہ اس پر حرام ہو گئی ہے،” حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ“(الایة) ”حتی کہ  کسی اور مرد سے نکاح نہ کرلے “۔ اور حضرت ابن عباسؓ نے بھی  یہی فتویٰ دیا۔
(السنن الكبري للبيهقي جلد7 ص549 ، جامع الاصول جلد7 ص599؛صحیح)
قابل غور بات ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے    تین طلاق کے واقع ہونے پر قرآن سے استدلال کیا ہے  یہ نہیں کہا کہ حضرت عمرؓ نے ایسا کہا تھا۔
مسئلے کی وضاحت 
غیرمدخول  بہا عورت   صرف اکھٹی تین طلاق دینے سے ہی حرام ہوتی ہے اس پر تین طلاق واقع ہونے کی یہی صورت ہے جب اسے اکھٹی تین طلاقیں دیں جائیں کہ”تجھے تین طلاق“ اور اگر غیرمدخولہ کو اسطرح صرف ایک مرتبہ ”طلاق “ یا  پھر”طلاق ، طلاق ، طلاق“ کہہ کر طلاق دی جائے تو پہلی بار طلاق کہنے سے ہی  اس پر طلاق پڑھ جاتی ہے اور دوسری دو طلاق کیلئے وہ  عورت اجنبی ہوجاتی ہے لہذا وہ دو بیکار جاتی ہیں ،اور  اس ایک طلاق کے بعد غیرمدخولہ عورت حرام نہیں ہوتی دوبارہ اسی مرد سے نکاح کر نے کی گنجائش موجود ہے یہ درست طریقہ ہے۔ یہی معاملہ حضورؐ کے دور میں رہا  کہ جب غیرمدخولہ کو  اگر کوئی اس طرح سے تین طلاق دے دیتا تو وہ  پہلی طلاق پڑتے ہی وہ عورت اس کیلئے اجنبی ہو جاتی پھر باقی دو مرتبہ طلاق کہنا  ایسا ہی ہوتا جیسے کوئی کسی اجنبی عورت کو طلاق کہے اسی لئے یہ فضول جاتیں،(یہ مسئلہ کبھی نہیں بدلہ گیا حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کے دور میں  بھی ایسا ہی رہا    اب بھی ایسا ہی ہے) لیکن جب غیرمدخولہ کو بھی اکھٹی تین طلاق”تجھے تین طلاق“ کہہ کر طلاق دی جائے تو اس عورت پر پوری تین طلاق پڑ جاتی ہیں وہ عورت تین طلاق کے بعد کی طرح حرام بھی ہوجاتی ہے اسی مرد سے دوبارہ نکاح کرنے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ حضرت عمرؓ کے دور میں جیسے جیسے   اسلام  دور دور تک پھیلتا گیا نئے نئے مسئلےپیدا ہوتے گئے لوگوں کی کثر ت صحیح مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سےاپنی غیر مدخول بہا  بیوی کو بھی اکھٹی تین طلاق دے کر جدا کرنے لگی  تو اب طلاقیں تو تین ہی واقع ہو رھی تھیں تو حضرت عمرؓ نے بھی اسی کو نافظ کر دیا  اور لوگوں کو آگاہ کر دیا  کہ غیر مدخولہ بھی اکھٹی تین طلاق کے بعد حرام ہو جاتی ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ غیرمدخولہ کو  جس طرح الگ الگ کرکے تین طلاق دینا ایک شمار ہوتا ہے ایسے ہی اکھٹی  تین دینا بھی ایک شمار ہو گا۔ 
 اس کے بعد دوسری دلیل بھی یہ پیش کرتے ہیں جو کہ دنیا کے بہت ہی کمزور دلیل ہے اور یہ  ضعیف ترین حدیث ایسی نہیں کہ اس سے دلیل پکڑی جاسکی۔ اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر دنیا کی کوئی حدیث بھی ضعیف نہیں ہو سکتی ۔  ایک نہیں بلکہ بہت طرحوں سے وہ حدیث  ضعیف ہے ۔
ابو سعید شرف الدین صاحب  غیرمقلد لکھتے ہیں۔
یہ مسلک (یعنی اکھٹی تین طلاق کو ایک کہنے کا) صحابہ ؓ تابعین و تبع تابعینؒ وغیرہ ائمہ محدثین متقمین کا نہیں ہے یہ مسلک سات سسو سال کے بعد کے محدثین کا ہے جو شیخ الااسلام ابن  تیمیہ کے فتوے کے پابند اور ان کے متقد ہیں یہ فتوی  (ابن تیمیہ) نے ساتوں صدی ہجرے کے آخیر میں دیا تھا تو اس وقت کے علمائے اسلام نے ان کی سخت مخالفت کی تھی “۔
(فتاویٰ ثنائیہ جلد 2 ص 219)
هذا وعندنا أن الإمام ابن القيم وشيخه إماما حق من أهل السنة، وكتبهم عندنا من أعز الكتب، إلا أنا غير مقلدين لهم في كل مسألة، فإن كل أحد يؤخذ من قوله ويترك إلا نبينا محمدا صلى الله عليه وسلم؛ ومعلوم مخالفتنا لهما في عدة مسائل، منها: طلاق الثلاث بلفظ واحد في مجلس، فإنا نقول به تبعا للأئمة الأربعة، ونرى الوقف صحيحا، والنذر جائزا، ويجب الوفاء به في غير المعصية.
مجموعہ رسائل و مسائل علماء نجد کے جامع شيخ عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي الحنبلي، الشيخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب كا فرمان لکھتے ہیں کہ: ہمارے نزدیک امام ابن القیم اوران کے شیخ (ابن تیمیہ) أهل السنة میں سے حق کے امام ہیں، اور ان کی کتابیں ہمارے نزدیک مستند کتابیں ہیں، لیکن ہم ہر مسئلہ میں ان (امام ابن القیم اور امام ابن تیمیہ) کی تقلید نہیں کرتے کیونکہ سوائے ہمارے نبی محمد صلى الله عليه وسلم کے ہر کسی کا قول لیا بهی جاتا ہے اور چهوڑا بهی جاتا ہے، لہذا ہم نے کئی مسائل میں ان دونوں (امام ابن القیم اورامام ابن تیمیہ) کی مخالفت کی ہے جو کہ ایک معلوم بات ہے، مثلا انہی مسائل میں سےایک لفظ کے ساتھ ایک مجلس میں تین طلاقوں کا مسئلے میں ہم أئمہ أربعہ (امام أبوحنیفہ، امام شافعی، امام أحمد بن حنبل، امام مالک) کی پیروی کرتے ہیں، (یعنی ایک لفظ کے ساتھ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے تینوں واقع ہوجاتی ہیں، یہی أئمہ أربعہ اور جمہور أمت کا اور یہی شیخ ابن عبدالوهاب اور اس کے پیروکاروں کا مسلک ہے)
(الدرر السنية : كتاب العقائد ، ١/٢٤٠)

  آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے بڑے علماء نے اس مسئلے میں رجوع کیا جس میں سے ان کے  نامور عالم زبیر علی زئی صاحب سر فہرست ہیں اور ان کے کئی شاگردوں نے بھی رجوع کر لیا ہے لیکن جماعت کی بدنامی کے ڈر سے حق کو چھپائے بیٹھے ہیں صرف تھوڑے تھوڑے آشارے دے کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے
حق چھپانے والے پر اللہ تعالٰی نے سورۃ بقرہ آیت 159 میں لعنت فرمائی ہے۔

9:۔  مرغی کی قربانی
آل  نام نہاد  اہل حدیث    عید پر انڈے اور مرغی کی قربانی کی قائل ہیں جبکہ نہ قرآن سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے نہ  کسی ایک صحیح حدیث سے نہ ہی کسی صحابی سے۔ یہ آل  نام نہاد  اہل حدیث    کی نکالی کو بدترین بدعت ہے۔
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے شیخ الحدیث اور مفتی عبد الستار صاحب لکھتے ہیں:
”شرعاً مرغ کی قربانی جائز ہے“۔
(فتاوٰ ستاریہ ج2 ص 72)
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے ایک اور عالم عبد الوہاب صاحب لکھتے ہیں:
”مرضی کی قربانی جائز ہے“۔
(مقاصد الامامہ ص 5)
جاہل  نام نہاد  اہل حدیث   اس کے دفاع میں کہتے ہیں حضرت بلالؓ کا قول ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ  نام نہاد  اہل حدیث   آج تک ایسا کوئی قول کسی صحیح سند سے ثابت نہیں کر سکے۔
 نام نہاد  اہل حدیثوں      کی عادت ہے کہ جب ان کا کوئی مولوی  ان کے گلے میں پھندا بن جائے تو فورا ً  اس سے جان چھڑانے کیلئے  کہتے ہیں ہم اس کے مقلد نہیں۔ یہاں یہ  نام نہاد  اہل حدیث   ضرور بتائیں کہ آپ کا وہ مولوی کس کا مقلد تھا ؟ وہ بھی تو آپ کی طرح یہی کہتا تھا میں قرآن حدیث مانتا ہوں اور کسی کا مقلد نہیں ہو گیا  بالاخر وہ گمراہ ہوا جب آپ  کے بڑے مولوی اجتہاد سے جاہل اور ترک تقلید کرکے قرآن حدیث  کو صحیح نہیں سمجھ سکے اور گمراہ ہی ہوئے ہیں تو پھر آپ  لوگوں کو ترک تقلید کی دعوت کی دیتے ہیں؟

10:۔ ناخن پالش لگے ہونے کے باوجود وضو
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے مفتیان نے یہ بھی فتوی دے رکھا ہے کہ ناخن پالش لگے ہونے باوجود وضو ہو جاتا ہے۔  دیکھئے (فتاویٰ اہل حدیث جلد 2 ص 11)
یاد رہے ناخن پالش لگے رہنے سے پانی ناخن تک نہیں پہنچ سکتا اور حدیث میں ہے کہ
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے وضو کیا اور اس کے پاؤ پر ایک ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی نبی کریمﷺ نے اس کو دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ واپس جاؤ پس اپنا وضو اچھی طرح کرو پس و ہ لوٹ گیا پھر نماز پڑھی۔ (صحیح مسلم جلد 1 حدیث 576)
آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کا یہ مسئلہ حدیث کے بھی خلاف ہے اور ان کی نکالی ہوئی بدعت ہے جس کو کرنے کیلئے یہ فتوے دیتے ہیں اور ان کی جاہل عوام ان پر خوشی سے عمل کر رہی ہےکوئی پوچھنے والا نہیں۔

11:۔ بے وضو اور پلید شخص کا قرآن پاک کو چھونا
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کی بدعتوں میں سے ایک بدعت یہ بھی ہے  کہ ان  کے نزدیک قرآن کو چھونے کیلئے طہارت شرط نہیں۔ دیکھئے (نزل الابرابر  ج1 ص 9)
نزل الابرار  کے مصنف نواب وحید الزمان کو آج کل کی  نام نہاد  اہل حدیث عوام اپنی جماعت سے خارج بتاتی ہے لیکن ان کے بڑے بڑے  علماء نواب وحید الزمان کو امام اہل حدیث کہتے ہیں
دیکھئے (سلفی تحیقیق جائزہ ص 635)
اور ان کے متعلق کہتے ہیں کہ نواب وحید الزمان صاحب آخری دم تک اہل حدیث رہے۔
دیکھئے
(ماہنامہ محدث ج 35 جنوری 2003 ص 77)
 نام نہاد  اہل حدیث   اپنے ایک مولوی زبیر علی زئی کی عبارت لے کر پھرتے ہیں کہ  زبیر علی زئی نے لکھا کہ وحید زمان ہمارا نہیں وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ
غیرمقلدین کے گھر کی شہادت کہ زبیر علی زئی کذاب تھا اور محدثین  کی  طرف بھی جھوٹ منسوب کر دیتا تھا۔
چنانچہ اہل  غیرمقلد عالم کفایت اللہ صاحب سنابلی لکھتے ہیں:
زبیر علی زئی صاحب اپنے اندر بہت ساری کمیاں رکھتے ہیں مثلا خود ساختہ اصولوں کو بلا جھجک محدثین کا اصول بتلاتے ہیں بہت سارے مقامات پر محدثین کی باتیں اور عربی عبارتیں صحیح طرح سے سمجھ ہی نہیں پاتے ، اور کہیں محدیث کے موقف کی  غلط ترجمانی  کرتے ہیں یا بعض محدثین  و اہل علم کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن سے وہ بری ہوتی ہیں۔ اور کسی  سے بحث کے دوران مغالطہ بازی کی حد کر دیتے ہیں اور فریق مخالف کے حوالے سے ایسی ایسی باتیں نقل کرتے ہیں یا اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیتے ہیں جو اس کے خواب و خیال میں  بھی نہیں ہوتیں۔
(زبیر علی زئی پر رد میں دوسری تحریر ص 2)
اور اگر ان کی یہ بات مان لی جائے کہ وہ گمراہ  ہو گیا تھا تو پھر ہم یہی کہتے ہیں کہ ترک تقلید کا اور کیا انجام ہونا ہے جب تمہارا سب سے بڑا مولوی جسے اس وقت امام اہل حدیث کہا جاتا تھا ترک تقلید کے بعد اپنا ایمان نہیں محفوظ کر سکا تو تم لوگوں کی کیا اوقات۔ اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو  گا کہ ترک تقلید مجتہد صرف گمراہی ہی ہے۔
ہم چیلنج سے کہتے ہیں کہ مذہب اربعہ سے چاہے کوئی اعلانیہ نکلا ہو یا عملاً نکلا ہو وہ گمراہ ہی ہوا ہے ۔
بہرحال دوسری طرف آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے دوسری علماء نے بھی یہ فتوی دے رکھا ہے اور آل  نام نہاد  اہل حدیث     بھی اسی مسئلے پر عامل ہے۔
چنانچہ نواب نور الحسن صاحب فرماتے ہیں
بے وضو شخص کیلئے قران کو چھونا جائز ہے۔ (عرف الجادی ص 15)

12:۔ تراویح ، تہجد اور وتر کو ایک  ہی کہنا
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے ہاں نماز تراویح، تماز تہجد اور  نماز وتر ایک ہی ہیں  نہ قرآن میں لکھا ہے کہ وتر ، تہجد اور تراویح ایک ہے نہ کسی حدیث میں لکھا ہے یہ ان  نام نہاد  اہل حدیثوں      کی نکالی ہوئی بدترین بدعت ہے۔
یہ  نام نہاد  اہل حدیث   اکثر کہتے ہیں کہ ہم ہر مسئلہ قرآن حدیث قرآن حدیث سے نکالتے ہیں  ذرہ یہ مسئلہ قرآن حدیث سے نکالیں ورنہ اس پر حکم لگائیں کہ یہ بدعت کیا ہے۔
آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے محدث زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”تہجد ، تراویح ، قیال اللیل ، قیام رمضان  اور وتر ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں“۔
(تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ص 16)
آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے  ایک اور بڑے محدث ناصر الدین البانی صاحب نے  نماز کو  تراویح کہا ہے۔ 
دیکھئے ( ترجمہ قیام رمضان ص 30)
جاہل  نام نہاد  اہل حدیث کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ  ان کے نزدیک نماز وتر سنت موکدہ ہے اور سنت موکدہ کا تارک گنہگار ہوتا ہے اور یہاں پر جب تراویح  اور وتر کو ایک ہی کہا جارہا ہے  تو پھر تراویح بھی سنت موکدہ ہوئی اور تراویح کے متعلق آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کا فتوی ہے کہ کوئی شخص اگر تراویح نہ پڑھنا چاہے تو نہ پڑے۔
 (تذکرہ مولانا غلام رسول قلعوی ص 58)
اس فتوے کے بعد آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کو نفس پر ست کہنا غلط نہ ہو گا۔

13:۔ایک ہاتھ سے مصافحہ
آل  نام نہاد  اہل حدیثوں       دونوں ہاتھوں سے مصافحے کو غلط کہتا ہے اور ایک ہاتھ سے مصافحے کو سنت کہتا ہے جو کہ ان کی نکالی ہوئی بدعت ہے اور کتاب و سنت میں اس کا کہیں بھی ثبوت موجود نہیں کہ مصافہ  دو ہاتھ سے غلط اور ایک ہاتھ سے سنت ہے۔
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے شیخ الحدیث عبد المنان نورپوری صاحب سے سوال ہوا کہ ”دونوں ہاتھ سے مصافہ کرنا کیسا ہے“ تو جواب دیتے  ہیں
دونوں ہاتھوں کے ساتھ مصافحہ سلام ملاقات والا رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
(احکام و مسائل ج 1 ص 532)
آل  نام نہاد  اہل حدیث     اب آنحضرتﷺ سے ایک ہاتھ سے مصافے کا ثبوت دے۔
صحیح بخاری (ج:۲ ص:۹۲۶) میں حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
“علمنی النبی صلی الله علیہ وسلم التشھد وکفّی بین کفّیہ۔”
ترجمہ:… “مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے التحیات سکھائی، اور اس طرح سکھائی کہ میرا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا۔”
اِمام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث “باب المصافحة” کے تحت ذکر فرمائی ہے، اور اس کے متصل “باب الأخذ بالیدین” کا عنوان قائم کرکے اس حدیث کو مکرّر ذکر فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنتِ نبوی ہے، علاوہ ازیں مصافحہ کی رُوح، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ
 نے تحریر فرمایا ہے
اپنے مسلمان بھائی سے بشاشت سے پیش آنا، باہمی اُلفت و محبت کا اظہار ہے۔
 حجة الله البالغہ ص:۱۹۸))
 امام بخاری حضرت حماد بن زید اود عبداللہ بن مبارک کا عمل نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ‌:
(صحیح بخاری)  صافح حمادبن زید ابن المبارک بالیدین
مطلب حماد بن زید نے جو عبداللہ بن مبارک کے استاذ ہیں اپنے شاگرد سے دو ہاتھ سے مصافحہ کیا۔

14:۔قربانی میں مرزئی (غیر مسلم) بھی شریک ہو سکتے ہیں
آل  نام نہاد  اہل حدیث    قربانی میں مرزئیوں کی شرکت کو بھی جائز سمجھتی ہے۔
چنانچہ آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے ایک مفتی صاحب لکھتے ہیں:
”باقی رہی مرزائی کی شرکت تو اس کے متعلق بھی حرام کا فتوی نہیں لگا سکتے“۔
(فتویٰ علمائے حدیث ج 13 ص 89)
آل  نام نہاد  اہل حدیث    اپنے اس عمل کی کوئی صحیح صریح حدیث پیش کرے نہیں تو تسلیم کرے کہ یہ ان کی نکالی ہوئی بدعت ہے۔

15:۔ اجماع حجت شرعیہ نہیں
آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے ہاں اجماع حجت شرعیہ نہیں جو کہ ان کی بدعتوں میں سے  ایک بڑی بدترین بدعت ہے۔
بعض  نام نہاد  اہل حدیث    زبانی طور پر تو کہتے ہیں کہ ہم اجماع کو مانتے ہیں لیکن عملی طور پر  بہت سے ثابت شدہ اجماعی مسائل کے منکر ہیں۔ مثال کے طور پر کتاب الاجماع جو کہ تیسری صدی ہجری میں لکھی گئی اس میں امت کے اجماعی مسائل ذکر ہیں ان میں   اکھٹی تین طلاق کے واقع ہونے کے متعلق لکھا ہے  دیکھئے
 (ترجمہ کتاب الاجماع ص 91۔ 92 ۔ 93)
یاد رہے اس کا ترجمہ بھی کسی غیرمقلد عالم نے کیا ہے۔
علامہ سخاویؒ فرماتے ہیں:۔
” ہم یقین رکھتے ہیں  اور تصدیق کرتے ہیں کہ نبیﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں آپ کو رزق دیا جاتا ہے اور آپ کے جسد شریف کو زمین نے نہیں کھایا اور اس پر اجماع ہے“۔ (القول البدیع ص 335)
جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ قرآن حدیث کے خلاف اجماع ہے یا میں قرآن حدیث کے خلاف اجماع نہیں مانو گا تو وہ اللہ کے نبیؐ کے فرمان کا منکر ہے۔ کیونکہ نبی نے اپنی زبان سے فرما دیا کہ :
اللہ میری امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔(مستدرک الحاکم سندہ صحیح)
 اب وہ شخص اس حدیث کے خلاف کہتا ہے کہ یہ قرآن حدیث کے خلاف جمع ہیں۔ اللہ نے انہیں قرآن حدیث کے خلاف جمع کر دیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بات نبی کی بات سے زیادہ معتبر ہے۔ نعوذباللہ
اب اگر  کوئی  نام نہاد  اہل حدیث   کہتا ہے کہ میں اجماع کو تو مانتا ہوں تو وہ یہ بتائے کہ کیسے پتا چلتا ہے کہ کسی مسئلہ پر اجماع ہے۔ کیونکہ یہ  نام نہاد  اہل حدیث   بھت سے اجماعی مسائل کا انکار اور ان سے جان چھڑانے کیلئے  اللہ کے نبیؐ کی حدیث (کہ اللہ میری امت کو  کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرےگا۔سندصحیح) کے خلاف کہہ دے گا یہ اجماع قرآن حدیث کے  خلاف ہے یعنی کہ یہ گمراہی پر جمع ہیں اللہ نے انہیں گمراہی پر جمع کر دیا ہے۔

جبکہ آل  نام نہاد  اہل حدیث    زبان سے بے شک وقتی طور پر دعوی کرے کہ وہ اجماع مانتی ہے لیکن حقیقت میں وہ اجماع کی منکر ہے۔ اجماع کا انکار وہ حیلے اور بہانوں سے اور فرمائشی دلائل کا مطالبہ کرکے بھی کرتے ہیں۔
بہرحال آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے بعض علماء اس کی صراحت کر  گے ہیں کہ ان کے ہاں اجماع حجت نہیں۔
چنانچہ آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے شیخ الحدیث عبد لمنان نورپوری صاحب لکھتے ہیں:
اجماع صحابہ اور اجماع ائمہ مجتہدین کا دین میں حجت ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔
(مکالمات نورپوری ص 85)
 آل  نام نہاد  اہل حدیثوں      کے ایک اور مفتی نور الحسن صاحب لکھتے ہیں

”اجماع چیزی نیست “  یعنی اجماع کی کوئی حیثیت نہیں ۔ (عرف الجادی ص 3)

16:۔ طلاق کی کوئی حد نہیں بار بار طلاق بار بار رجوع کرنا جائز
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے شیخ الحدیث مفتی محمد عبد اللہ ویرووالوی صاحب ایک عنون بار بار طلاق بار بار رجوع کے تحت ایک سوال اور اس کا جواب لکھتے ہیں کہ
سوال: زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ اس کے بعد 10 یو م زید نے رجوع کر لیا پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ تنازع ہونے کی صورت میں اس نے طلاق دے دی۔ آٹھ یوم کے بعد پھر رجوع کر لیا۔ اس نے چار پانچ مرتبہ ایسا ہی کیا۔ طلاق دے دی اور رجوع کر لیا زید کو اس مسئلہ کے بارے میں کوئی علم نہ تھا اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟ اب پھر دوبارہ رجوع کرنا چاہتا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں  فتویٰ صادر فرمائیں۔ اللہ آپ جو جزائے خیر دے۔
جواب:
صورت مسئلولہ میں رجوع کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ دو گواہوں کے ر برو رجوع کرکے بیوی کو آباد کر سکتا ہے
(فتاویٰ جات ص 482)
اس احمق مولوی نے طلاق کی  مقدار  ہی ختم کر دی جو کہ شریعت نے ہمیں دی تھی۔
اب کوئی غیرمقلد  صبح شام بیوی کو طلاق دیتا پھرے اور رجوع کرے بیوی اس کے لئے حلال ہے۔

17:۔  غیر مجتہد بھی اجتہاد کرے
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے ہاں اجتہاد ہر ایک کو اجتہاد کرنا چاہے جس کا ثبوت کتاب و سنت میں کہیں  بھی نہیں، اگر ہر ایک کو اجتہاد کی اجازت ملے تو پھر  ہر کوئی   غیر اجتہادی مسائل میں اجتہاد کرلے اور اجماعی مسائل کو بھی اجتہادی میں دھکیل کر  اپنا من پسند عقیدہ اور عمل بنا لے۔
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے محدث زبیر علی زئی صاحب ایک سائل کو مختصر جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں
 ”باقی امور میں خود اجتہاد کر لیں “ (فتاویٰ علمیہ ص 198)
آل  نام نہاد  اہل حدیث    کا یہ عمل قرآن و سنت سے قطعاً ثابت نہیں   اس حرکت کا مقصد صرف  لوگوں کو مذہبی و دینی  پابندی سے نکال کر بے دین اور لامذہب بنانا ہے اور  مسلمانوں کے بیچ ہی فتنے اور فساد پیدا کرنا ہے اور  یہ مقصد انگریز نے ان کے بڑوں کو دیا تھا جس کا اعتراف ان کے بعض بزرگوں نے مرنے سے پہلے کیا ہے۔
چنانچہ آل  نام نہاد  اہل حدیث    کے مجدد صدیق حسن خان  صاحب لکھتے ہیں
یہ لوگ (غیرمقلدین) اپنے دین میں وہی آزادگی برتتے ہیں جس کا اشتہار بار بار انگریزی سرکار سے جاری ہوا۔ خصوصاََ دربار دہلی سے جو سب درباروں کا سردار ہے۔
ترجمان وہابیہ ص32))
جناب مولانا محمد حسن صاحب غیرمقلد بٹالوی  جنہوں نے اپنے فرقہ کا نام انگریز سے اہلحدیث الارٹ  کرویا تھا    خود فرماتے ہیں: "اے حضرات یہ مذہب سے آزادی اور خود سری و خود اجتہادی کی تیز ر ہوا یورپ سے چلی ہے اور ہندستان کے شہر و بستی و کوچہ و گلی میں پھیل گئ ہے۔
( اشاعت السنۃ  ص٢٥٥)
ابراہیم سیالکوٹی صاحب بھی اس فرقے کے بڑے علماء میں شمار ہوتے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے   لکھتے ہیں
جماعت اہل حدیث اپنے ناقص العلم اور  نام نہاد علماء کی تحریروں  اور تقریروں سے  دھوکہ نہ کھائے کیونکہ ان میں سے بعض تو پرانے خارجی اور بے علم محض اور  پرانے کانگرسی ہیں جو کانگریس کا حق نمک ادا کرنے کیلئے ایک نہایت گہری دوز تجویز کے تحت انگریزی پالیسی ڈیوائڈ اینڈ رول لڑاؤ اور حکومت کرو تفرقہ ڈالو اور فتح کرو سے مسلمانوں کے اختلافی مسائل میں مشغول کرکے باہبی اتفاق میں رکاوٹ اور مسلمانوں میں خصوصاً اہلحدیث میں تعصب پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ (احیاء المیت ص 36)
 اس کے علاوہ آل  نام نہاد  اہل حدیث    میں اور بھی بہت ساری بدعات پائی جاتی ہیں  ہم نے چند  ایک مختصر کرکے پیش کر دیں ہیں۔

وما علينا الا البلاغ